15 دسمبر 2014 - 23:21
خود ساختہ جنگ میں واشنگٹن کی ہار

نیکارا گوئے کی حکومت نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے دوامریکی سینٹروں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نیکارا گوئے  کی حکومت نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے دوامریکی سینٹروں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا  ۔
امریکہ کے یہ دونوں سینٹر مارکوروبیو اور لیانا راس  لاتینی امریکہ کے علاقے میں بائیں بازو کی حکومتوں کے خلاف سخت مواقف رکھنے والوں کے نام سے مشہور ہیں ۔
ریپبلکن پارٹی کے سینٹر لیاناراس نے چند ماہ قبل نیکارا گوئے کے دارالحکومت مانا گوا میں صحت عامہ کی ناقص کارکودگی کو بہانہ بناکر اس ملک کے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کی تھی ۔ ایسی صورت میں نیکارا گوئے کے صدر ڈانیل اورتگانے یہ حکم اس لئے دیا کہ وہائٹ ہاؤس نے حالیہ دنوں میں ونزئيلا ، کیوبا اور نیکارا گوئےکے حکام کو ویزا نہیں دیا تھا۔
 واشنگٹن  نے گذشتہ برس جنوری میں بھی ونزئیلا کے بعض حکام کی  جانب سے ویزا کے لئے دی گئی درخواستوں کو بھی قبول نہیں کیا تھا ۔وہائٹ ہاؤس نے اپنے اس اقدام کو ونزئیلا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے لیکن مبصرین نے کہا تھا کہ اس اقدام کی اصل وجہ کاراکاس کی جانب سے   غاصب صیہونی حکومت  کے  مظالم کے مقابلے میں غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کرنا ہے ۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے  انہتر ویں  (69 )جلاس کے موقع پر ونزئیلا کے  صدر نیکولس مادورونے  بھی امریکہ کی طرف  سےانھیں نیویارک آنے سےروکے جانے کی کوششوں کو برملا کیا تھا ۔
ا مریکہ  نے بعض مواقع پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کے سفیروں کو بھی ویزا نہ دینے کی کوشش کی تھی ۔  ويزا جیسے اقدامات سے استفادہ کرنا ڈپلو میسی نقطہ نظر سے  غلط ہے ۔
امریکہ کے  اس اقدام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہےکہ ماڈرن دنیا کی شان کے خلاف ہے کہ  ایک  طاقتور ملک  بین الاقومی میدانوں میں اپنے سیاسی اہداف کے لئے ہتھکنڈروں کو  استعمال کرے۔ امریکہ بہت سے مواقع  پر اقوام متحدہ  اورامریکہ میں کام کرنے  والے دیگر  عالمی اداروں میں دنیا کے مختلف ملکوں  کو  اپنے اقدامات کا نشانہ بناتا  ہے ۔
 بین الاقوامی  قانون واشنگٹن کے اس  طرح کے اقدامات کو عالمی  عرف  حتی  بعض بین الاقوامی قوانین کی  خلاف ورزی قراردیتا ہے ۔
  ماہرین قانون کا کہنا ہےکہ اقوام متحدہ امریکی حکومت کا ایک  حصہ نہیں ہے اور  امریکہ  کو یہ  اختیار نہیں ہے کہ  وہ اقوام  متحدہ کے رکن ممالک کے نمایندوں کو ویزا دینے سے منع کرے  ۔
اس سلسلے میں ایک قانونی دستاویز کی شکل  میں ایک  قرار داد ہے جو 1947 میں پہلی بار اقوام متحدہ کی تشکیل کے وقت منظور ہوئی تھی ۔
اس قرار داد میں امریکہ کو ملکوں کے درمیان ہونے والے مکاتبات کے  بارے  میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ماہری قا نون  نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس قرارداد کے لحاظ سے امریکہ کواقوام متحدہ کے اجلاس میں آمد ورفت کرنے والے ممالک کے سیاسی وفود کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا کو‏ئي  حق نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی میزبانی سے غلط استفادہ کرنے سے بھی پتہ چلتاہے کہ امریکہ  کو اس بارے  میں بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے  یاکم ازکم اسے  اپنے جیسے  بعض ممالک کا سامنا  کرنا  پڑا  ہے  ۔
مثال کے طورپر اقوام متحدہ  کی جنرل اسمبلی کے  69 وین اجلاس میں ونزوئیلا کے  صدر نیکولس مادورو  نہ صرف اس اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک پہنچے بلکہ امریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف ایک  سخت تقریر کی اور ان  کا ملک سلامتی کونسل کا رکن  بن گیا ۔
بین  الاقوامی قانون کے  ماہرین کا کہنا ہےکہ امریکہ نے ویزا کی جنگ چھیڑ کر حاض طورپر اقوام متحدہ کی میزبانی  کو ہتھکنڈے کے  طوپر استعمال کرکے بین الاقوامی تعلقات میں رخنہ  اندازی کی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲